ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / عالمی خبریں / مصر: قبطی عیسائیوں کے دو گرجا گھروں میں بم دھماکے، 44 افراد ہلاک

مصر: قبطی عیسائیوں کے دو گرجا گھروں میں بم دھماکے، 44 افراد ہلاک

Mon, 10 Apr 2017 20:39:39    S.O. News Service

قاہرہ،10اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)مصر کے دو شہروں اسکندریہ اور طنطا میں قبطی عیسائیوں کے دو گرجا گھروں میں بم دھماکوں کے نتیجے میں چوالیس افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ زخمی ہو گئے ہیں۔سرکاری میڈیا کے مطابق قاہرہ کے شمال میں واقع نیل ڈیلٹا کے شہر طنطا میں مار جرجس قبطی چرچ میں بم دھماکا ہوا۔ اس وقت چرچ میں ”پام سنڈے“کی تقریب جاری تھی۔یہ قبطی عیسائیوں کا سب سے مقدس دن مانا جاتا ہے۔اس بم دھماکے میں تیس افراد ہلاک اور ستر سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔اس بم حملے کے چند گھنٹے بعد مصر کے دوسرے بڑے شہر اسکندریہ میں المرقس چرچ کے باہر بم دھماکا ہوا۔مصر کی وزارت داخلہ نے کہا ہے کہ یہ ایک خودکش بم حملہ تھا۔ خودکش بمبار نے چرچ کے اندر گھسنے کی کوشش کی تھی لیکن اس کو پولیس نے مرکزی دروازے پر روک لیا تھا اور اس نے وہاں خود کو دھماکے سے اڑا دیا تھا۔
دہشت گردی کا نشانہ بننے والے ان دونوں گرجا گھروں میں پام سنڈے کی مناسبت سے تقریبات منعقد کی جارہی تھی۔یہ دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بیت المقدس میں فاتحانہ داخلے کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔مصر کے سرکاری میڈیا کے مطابق قبطی عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ تواضروس دوم بھی اسکندریہ میں چرچ میں مذہبی تقریب میں شریک تھے۔سخت گیر جنگجو گروپ داعش نے ان دونوں بم دھماکوں کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔اس نے حال میں مصر میں عیسائیوں پر حملے تیز کرنے کی دھمکی دی تھی۔مصر کی اعلیٰ مذہبی اتھارٹی اور تاریخی دانش گاہ جامعہ الازہر نے ان دونوں بم حملوں کی شدید مذمت کی ہے اور انھیں تمام مصریوں کے خلاف جرم قرار دیا ہے۔مصری مسلمانوں کی بڑی تعداد نے اسکندریہ اور طنطا میں بم دھماکوں میں زخمی ہونے والے قبطیوں کے لیے خون کے عطیات دیے ہیں۔
واضح رہے کہ قبطی عیسائی مصر کی کل آبادی نو کروڑ بیس لاکھ کا دس فی صد ہیں۔داعش سے وابستہ جنگجو ان کے گرجا گھروں کو ماضی میں بھی بم حملوں میں نشانہ بنا چکے ہیں۔دسمبر میں دارالحکومت قاہرہ میں قبطیوں کے ایک کیتھڈرل چرچ میں بم دھماکے میں پچیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔
 


Share: